
اسلام آباد/گوادر ( خ ن / ناظم روزنامہ ) چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر میں ترقیاتی اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWG on Gwadar) کے نویں اجلاس کی تیاریاں کے سلسلے میں آج اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت سیکریٹری پلاننگ کمیشن ڈاکٹر مجید احمد نے کی، جس میں مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کی پیش رفت، جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لیے تجویز کردہ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر طے کیا گیا کہ نویں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں منصوبوں کے حوالے سے اہم فیصلے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اجلاس میں گوادر کی مستقبل کی شہری اور معاشی ترقی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔
گوادر اسمارٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت مکمل ہونے والے اہم منصوبوں میں شامل ہے اور آئندہ شہری ترقی، انڈسٹریل زون، انرجی زون، گوادر پورٹ سمیت اہم منصوبوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈائریکٹر جنرل پی اینڈ ڈی نے بتایا کہ گوادر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے چین کی جانب سے اہم اور قابل قدر تعاون حاصل ہے، جس سے نشیب میں مقامی آبادی کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی نے تجویز دی کہ مستقبل کے منصوبوں میں گوادر میں چین فری ڈسٹرکٹ اسپتال کا قیام کیا جائے جس کے تحت اسپتال کو مکمل طور پر جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں 300 بستروں پر مشتمل اسپتال کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ پی ڈی ایل کالج اور سڑک بنانے کے منصوبے بھی زیر غور لائے گئے۔ اس اقدام کا مقصد گوادر سمیت بلوچستان کے عوام کو طبی تعلیم اور جدید صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے وسیع تر علاقے میں پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر اور بجلی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
اس منصوبے کا مقصد گوادر کی مقامی شہری کمیونٹی کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا، مقامی آبادی کے لیے بہتر روزگار، مقامی صنعت کو فروغ دینا اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں گوادر کے اہم منصوبوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جن میں گوادر فری زون، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پاک چین فشریز انسٹی ٹیوٹ اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آپریشنز اور رپورٹ آفیشل ڈویلپمنٹ نے گوادر پورٹ کی موجودہ صورتحال، گوادر فری زون فیز-I اور فیز-II، پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور دیگر متعلقہ منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ گوادر فری زون کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں وسیع پیمانے پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گوادر میں سی پیک کے تحت جاری ترقیاتی عمل کا بنیادی مقصد صرف بندرگاہ اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ گوادر شہر کو جدید شہری سہولیات، صحت، تعلیم، پانی، روزگار اور معاشی مواقع سے آراستہ کرنا بھی ہے۔
سی پیک کے تحت اور رپورٹ سے آئندہ مستقبل کی ترجیحات میں پاک چین اکنامک زون، برآمدات، تجارتی اور ڈیجیٹل ورکنگ، اور انرجی کی پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے لیے منصوبوں سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ترجیحات اور آئندہ کے عملی لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے، تاکہ سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔



