
کوئٹہ ( ناظم روزنامہ ) سینئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قدیم سے آباد سیٹلرز وفاق کی طرف دیکھنے کی بجائے اس سرزمین کی اکثریت میں شامل ہو کر بلوچستان کے معاملات کو بہتر بنانے، سرزمین کے قومی حقوق میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مٹی کا حق ادا کریں۔
قومی اتفاق اور یکجہتی سے ہی ہم بلوچستان کے قومی، سیاسی، سماجی حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے سربراہ رابطہ ہم سب کے تحت کوئٹہ کے شہریوں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، وفد میں خواتین بھی تھیں۔ انہوں نے متعدد مشترکہ تعداد میں شرکت بڑھانے پر امن و حیات کا اعلان کیا۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ قومی وطن کو درپیش سیاسی، سماجی اور انتظامی بحرانوں سے یہاں آباد اقوام اور برادر اقوام قومی یکجہتی اور حقیقی سیاسی عمل کے ذریعے ہی نکل سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی عمل کو سہولت کاروں، ٹھیکیداروں نے منصب کے تحت آؤٹ سورس کیا اور غیر جمہوری لوگ نمائندگی کا دعویٰ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ریاست اور بلوچستان کے لوگوں کے درمیان عدم اعتماد ہے اور جعلی منتخب نمائندے بلوچستان کی اسمبلی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو قومی حقوق صوبائی سیاسی جمہوری عمل سے محروم رکھا گیا ہے اس محرومی کے خاتمے کیلئے بلوچستان میں قدیم سے آباد سیٹلرز وفاق کی طرف دیکھنے کی بجائے اس سرزمین کی اکثریت میں شامل ہو کر بلوچستان کے معاملات کو بہتر بنانے۔
سرزمین کے قومی حقوق میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مٹی کا حق ادا کریں، انہوں نے کہا کہ ہمارے وطن میں آج ایک بہت بڑا سیاسی و انتظامی بحران ہے جس کے نتیجے میں بلوچ، پشتون اقوام اور برادریاں تکلیف اور مصائب سے گزر رہے ہیں اور مصائب کو ایک بہت بڑے قومی اتفاق، یکجہتی اور سیاسی عمل سے ختم کیا جا سکتا ہے اور اس قومی اتفاق اور یکجہتی سے ہی ہم بلوچستان کے قومی، سیاسی، سماجی حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔



