
تحریر؛ چاکر بلوچ
تربت وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر ضلع کیچ میں خواتین کو فنی، پیشہ ورانہ اور عملی مہارتیں فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم ادارہ ہے۔ اس مرکز کا بنیادی مقصد خواتین اور بچیوں کو ایسے ہنر سے آراستہ کرنا ہے جن کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں بلکہ مستقبل میں باعزت روزگار اور معاشی خودمختاری کے مواقع بھی حاصل کر سکیں۔ تربت جیسے خطے میں جہاں خواتین کے لیے روزگار اور فنی تربیت کے مواقع نسبتاً محدود رہے ہیں، ایسے ادارے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ووکیشنل تعلیم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو محض روایتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔ تربت وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر بھی اسی تصور کے تحت خواتین کو مختلف عملی مہارتوں سے روشناس کرانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس قسم کی تربیت خواتین کو اپنے گھروں سے کام شروع کرنے، چھوٹے کاروبار قائم کرنے اور اپنی آمدنی پیدا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
تربت میں خواتین کے لیے فنی تربیت کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ بہت سی خواتین گھریلو ذمہ داریوں کے باعث دور دراز علاقوں میں ملازمت یا تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں۔ اگر انہیں اپنے ہی شہر میں سلائی، کڑھائی، ڈریس میکنگ، بیوٹیشن، کمپیوٹر اور دیگر مفید ہنر سیکھنے کے مواقع میسر ہوں تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکتی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق تربت میں خواتین کے لیے ووکیشنل تربیت کے پروگراموں میں ڈریس میکنگ، ہیئر اینڈ بیوٹی سروسز اور کمپیوٹر آپریٹر جیسے شعبے بھی شامل رہے ہیں۔
اس مرکز کی ایک نمایاں خصوصیت روایتی ہنر کے ساتھ جدید مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ سلائی اور کڑھائی جیسی روایتی مہارتیں مقامی ثقافت اور دستکاری سے جڑی ہوئی ہیں اور خواتین ان کے ذریعے گھر بیٹھے مصنوعات تیار کرکے فروخت کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب کمپیوٹر، ڈیجیٹل مہارتیں اور دیگر جدید شعبے خواتین کو بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
خواتین کی فنی تربیت کا سب سے بڑا فائدہ معاشی خودمختاری ہے۔ ایک ہنر مند خاتون اپنے گھر میں سلائی سینٹر، بیوٹی پارلر یا چھوٹا کاروبار شروع کر سکتی ہے، جبکہ کمپیوٹر اور ڈیجیٹل مہارت رکھنے والی خواتین آن لائن کام کے مواقع بھی تلاش کر سکتی ہیں۔ یوں ووکیشنل تربیت صرف ایک سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار اور آمدنی کے نئے راستے کھولنے کا وسیلہ بن سکتی ہے۔
تربت وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کی سرگرمیاں اس وسیع تر ضرورت سے بھی جڑی ہوئی ہیں کہ بلوچستان کی خواتین کو مقامی سطح پر معیاری فنی تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ ماضی میں ضلع کیچ میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر میں خواتین کو تربیت دینے اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش و فروخت کے لیے آؤٹ لیٹ قائم کرنے کا ذکر بھی ایک ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ میں موجود ہے۔
جون 2026 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق تربت کے وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کی بحالی اور جدید خطوط پر فعالیت کے حوالے سے بھی پیش رفت ہوئی، جس میں آئی ٹی، سلائی و کڑھائی اور بیوٹیشن تربیت کے لیے سہولیات کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی ٹی مرکز میں کمپیوٹرز، جبکہ سلائی اور کڑھائی مرکز میں مشینیں فراہم کی گئی ہیں اور خواتین کی تربیت کے لیے باقاعدہ انسٹرکٹرز موجود ہیں۔
اس طرح کا ادارہ صرف خواتین کو ہنر فراہم نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے کی معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ جب ایک خاتون ہنر سیکھ کر آمدنی حاصل کرتی ہے تو اس کا فائدہ اس کے خاندان تک پہنچتا ہے۔ اس سے گھریلو آمدنی میں اضافہ، بچوں کی تعلیم، بہتر معیارِ زندگی اور خواتین میں خود اعتمادی پیدا ہونے کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسی لیے خواتین کی فنی تربیت کو معاشی اور سماجی ترقی کے اہم ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔
تربت وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کے لیے ضروری ہے کہ تربیتی پروگراموں کو مقامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ سلائی، کڑھائی اور بیوٹیشن کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، ای کامرس، کمپیوٹر آپریٹر اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت کے مواقع بڑھائے جائیں۔ اس کے علاوہ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو مارکیٹ سے جوڑنے، ان کی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
تربت وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر خواتین کے لیے محض ایک تربیتی ادارہ نہیں بلکہ انہیں خودمختار، باصلاحیت اور معاشی طور پر مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اگر حکومت بلوچستان اور متعلقہ ادارے اس مرکز کو مزید جدید سہولیات، بہتر تربیتی پروگرام، ماہر اساتذہ، مارکیٹ لنکیج اور روزگار کے مواقع سے منسلک کریں تو یہ ادارہ ضلع کیچ میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے ایک مثالی مرکز بن سکتا ہے۔ تربت کی خواتین میں موجود صلاحیتوں کو مناسب تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنے خاندان، معاشرے اور پورے خطے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔



