
تحریر: اختر منگی آرٹیکل رائٹر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآبادڈویژن
اُناتیس سالہ انتظار کا اختتام، عبدالجبار کی آنکھوں میں خوشی کے آنسودکھ بھری داستان پر موجودہ حکومت کی پالیسی اور عرضی نوکریوں کا سلسلے نے جہاں بہت سے ملازمت و روزگار کے منتظر بیروزگاروں کی مدد ہوئی وہاں ایک اور داد رسی بھی ہوئی۔استا محمد کے رہائشی عبدالجبار کی داستان صبر، محرومی اور امید سے بھری ہوئی ہے۔ عبدالجبار نے 1997ء میں پٹواری کا کورس مکمل کیا۔ بدقسمتی سے دورانِ کورس ہی ان کے والد محترم کا انتقال ہوگیا، مگر تدریسی عمل اور امتحانات کی مجبوری کے باعث وہ اپنے والد کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔ ایک طرف باپ کی جدائی کا ناقابلِ برداشت غم تھا اور دوسری جانب مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے عبدالجبار نے پٹواری کی ڈگری ہاتھ میں تھام لی۔مگر پھر وقت گزرتا گیا۔۔۔ ایک سال، پانچ سال، دس سال نہیں بلکہ 29 سال گزر گئے، عبدالجبار اپنی ڈگری ہاتھ میں لیے سرکاری ملازمت کے منتظر رہے۔ اس طویل انتظار کے دوران انہوں نے نہ جانے کتنی امیدیں باندھیں، کتنی بار سرکاری دفاتر کے چکر لگائے اور کتنی بار مایوسی کا سامنا کیا، مگر ان کے دل میں امید کا چراغ پھر بھی روشن رہا۔گزشتہ روز عبدالجبار ضلع استا محمد سے کمشنر نصیرآباد ڈویڑنل آفس پہنچے۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ گزشتہ دنوں عارضی بنیادوں پر ہونے والے انٹرویو کے حوالے سے معلومات حاصل کرسکیں۔ ان کی حالتِ زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس استا محمد سے ڈویڑنل آفس تک آنے کے لیے موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ مجبوری کے عالم میں انہوں نے اپنی لختِ جگر بیٹی کی سونے کی بالی لے کر سفر کا خرچ پورا کیا، دل میں صرف یہی آس تھی کہ دفتر جاؤں گا، معلومات حاصل کروں گا اور واپس گھر لوٹ آؤں گا۔لیکن شاید اللہ تعالیٰ نے ان کی 29 سالہ دعاؤں، صبر اور آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کو قبول کرلیا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی مہربان اور شفیق ہے۔ عبدالجبار کو کیا معلوم تھا کہ جس دفتر میں وہ صرف معلومات لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں، وہاں ان کے لیے خوشخبری پہلے ہی لکھی جاچکی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ایس ایم بی آر قمبر دشتی کے احکامات کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی نے میرٹ کی بنیاد پر ان کی عارضی تعیناتی کے احکامات پہلے ہی جاری کر رکھے تھے۔کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ بابو عبدالصمد کھوسہ نے جب عبدالجبار کو ان کی جائے تعیناتی کے احکامات تھمائے تو شاید وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔ 29 سال تک جس کاغذ کو ہاتھ میں تھامے وہ ملازمت کی آس لگائے بیٹھے رہے، آج اسی انتظار کا صلہ ان کے ہاتھ میں تھا۔عبدالجبار کی آنکھیں خوشی اور جذبات سے بھر آئیں۔ لبوں پر شکر کے الفاظ تھے اور دل اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر میں جھکا ہوا تھا۔ یہ صرف ایک ملازمت کا آرڈر نہیں تھا بلکہ 29 سال کے صبر، محرومی، جدوجہد اور امید کی جیت تھی۔عبدالجبار کی یہ داستان اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کبھی کبھی انسان برسوں دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہے، مگر جب اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو بند دروازے اچانک کھل جاتے ہیں۔ آج ایک باپ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہیں، ایک بیٹی کی سونے کی بالی واپس گھر جانے کی منتظر ہے اور ایک خاندان کے 29 سالہ انتظار کا باب بالآخر ختم ہوگیا ہے۔یہ صرف عبدالجبار کی خوشی نہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر کی میرٹ پالیسی، انصاف اور انسانی ہمدردی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔



