
بلوچستان اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس: صادق عمرانی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، اندرونِ صوبہ ہوائی اڈوں کی بحالی اور کینسر اسپتال کے قیام سمیت اہم فیصلے
کوئٹہ ( ناظم نیوز روزنامہ ) کوئٹہ میں اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کئی اہم اور تند و تیز سیاسی امور زیر بحث آئے، جن میں وزراء کے درمیان گرما گرم بحث اور متعدد اہم عوامی قراردادوں کی منظوری شامل ہے۔
صادق عمرانی کے خلاف مذمتی قرارداد اور ریمارکس حذف اجلاس میں صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کے 31 اگست کے اجلاس میں دیے گئے متنازع اور غیر پارلیمانی ریمارکس کے خلاف ایک مشترکہ مذمتی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی گئی۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے حاجی علی مدد جتک اور دیگر اراکین کا کہنا تھا کہ مذکورہ بیانات سے اسلام آباد جانے والے سیاسی و قبائلی رہنماؤں کے وفد اور پورے صوبے کے عوام کی عزتِ نفس مجروح ہوئی ہے۔ بحث کے دوران وزیر آبپاشی اور صوبائی وزیر بخت کاکڑ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعد ازاں، اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے میر صادق عمرانی کے متنازع ریمارکس کو اسمبلی کی کارروائی سے فوری طور پر حذف کرا دیا۔
پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب کے ہوائی اڈے فعال کرنے کی منظوری بی این پی عوامی کے سربراہ اور رکن اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اس قرارداد کے تحت وفاقی حکومت، وزارتِ ہوابازی اور نجی ایئر لائنز سے رابطہ کر کے پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب کے غیر فعال ہوائی اڈوں سے کوئٹہ، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لیے باقاعدہ پروازیں بحال کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ طویل سفری مسافت اور دشوار گزار راستوں کے مسائل کا ازالہ ہو سکے۔
سندھ میں پشتون تاجروں کے تحفظ سے متعلق قرارداد جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر علی ترین کی پیش کردہ قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں حالیہ دنوں کراچی میں سندھ پولیس کی جانب سے پشتون تاجروں اور محنت کشوں پر مبینہ تشدد اور ان کے کاروبار بند کرانے کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔ ایوان نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت سے رابطہ کر کے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے اور وہاں مقیم پشتون تاجر برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
منشیات کے خلاف سخت قوانین اور کینسر اسپتال کا قیام مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی پیش کردہ قرارداد کی روشنی میں صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ، فروخت اور استعمال کے خلاف سخت قوانین بنانے، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلانے اور نوجوانوں کے لیے خصوصی بحالی مراکز قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ، سید ظفر علی آغا کی پیش کردہ قرارداد پر عمل کرتے ہوئے صوبے میں کینسر کے مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بین الاقوامی معیار کا جدید کینسر اسپتال قائم کرنے اور صحت کارڈ میں کینسر کے علاج کو شامل کرنے کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔
دیگر قانونی امور اور کارروائی اجلاس کے دوران محکمہ ماہی گیری میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف توجہ دلائو نوٹس پر بحث کی گئی، جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے کارروائیوں کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے علاوہ، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے "انسداد دہشت گردی (بلوچستان) ترمیمی مسودہ قانون 2026” ایوان میں پیش کیا جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ تمام کارروائی کے بعد اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس 5 ستمبر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔



