
اگر آپ صحت کے معاملے میں محتاط ہیں تو یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آج پوری دنیا میں موٹاپا ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے، جو ہماری زندگی میں کئی سنگین بیماریوں کو دعوت دے رہا ہے۔
گذشتہ سال جاری ہونے والی عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار تھا۔
ایسی صورتِ حال میں موٹاپے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور موٹاپے جیسے مسئلے سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی زندگی میں کون سی تبدیلیاں کرنی چاہییں؟
اس سنگین مسئلے سے جڑے اہم سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہم نے دہلی کے فورٹس ہسپتال کے شعبۂ موٹاپا کی سربراہ ڈاکٹر مُگدھا سے گفتگو کی۔
کیا موٹاپے کا اثر متوقع عمر پر بھی پڑتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر آپ شدید درجے کے موٹاپے کا شکار ہوں تو آپ کی متوقع عمر 10 سے 20 سال تک کم ہو سکتی ہے، تاہم اگر کوئی شخص اپنے وزن میں صرف پانچ فیصد کمی بھی کر لے تو بہت سے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
فرض کریں کہ کسی شخص کا وزن 100 کلوگرام ہے اور وہ اسے کم کر کے 95 کلوگرام کر لیتا ہے تو اتنا وزن کم کرنے سے بھی اس کا بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر قابو میں آ سکتے ہیں۔
اگر وہ اپنے وزن میں 10 فیصد کمی کر لے، یعنی 100 کلوگرام سے کم کر کے 90 کلوگرام کر لے تو سوتے وقت سانس لینے میں پیش آنے والی دشواری بھی کم ہو سکتی ہے۔
اگر وزن میں 15 سے 20 فیصد کمی ہو جائے تو بہت سی بیماریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، فیٹی لیور کا مسئلہ ختم ہو سکتا ہے، یہاں تک کے ہارٹ اٹیک جیسی بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔
موٹاپا سے خوداعتمادی اور ذہنی صحت پر اثر
موٹاپے کا شکار بہت سے افراد کو سکول، کالج، کام کی جگہ اور دیگر مقامات پر باڈی شیمنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہاں تک کے بہت سے لوگ ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے بعض افراد زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں اور ایک منفی چکر پیدا ہو جاتا ہے، جس کے باعث موٹاپا مزید بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موٹاپے کو صرف زیادہ کھانے اور سستی سے جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موٹاپا بھی ایک بیماری ہے، بالکل اسی طرح جیسے تھائیرائڈ کے مسائل، بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی بیماریاں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کریں۔ خود اپنا علاج کرنے کی کوشش نہ کریں۔



