
ختمِ نبوت کانفرنس میں اہم پیغام، علم، دلیل اور پُرامن جدوجہد کو اپنانے پر زور
کوئٹہ ( ناظم نیوز روزنامہ )عقیدہ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کی بنیاد، تحفظ کیلئے علمی شعور،آئینی پاسداری اور پْرامن جدوجہد ضروری ہے،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا بنیادی اور ناقابلِ تردید حصہ ہے اس عقیدے کے تحفظ کیلئے علمی شعور، قرآن و سنت کی تعلیمات سے وابستگی،آئینی پاسداری، پْرامن جدوجہد اور اتحادِ امت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
7ستمبر پاکستان کی آئینی اور دینی تاریخ کا ایک اہم اورتاریخی دن ہے1974ء میں اسی روز پاکستان کی قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی اور لاہوری گروہوں کی آئینی حیثیت واضح کرتے ہوئے انہیں غیر مسلم قرار دیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ دارالرشادجامع مسجد چمن پھاٹک کوئٹہ میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے میزبان ونائب امیر صوبہ ڈاکٹر عطاالرحمان، بائب امیر صوبہ مولاناحافظ نورعلی ودیگرعلمائے کرام نے خطاب کیاانہوں نے کہاکہ یہ تاریخی فیصلہ کسی ایک دن کی سیاسی سرگرمی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے علمائ،دینی و سیاسی جماعتوں اور عوام کی طویل علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی جدوجہد موجود تھی۔ تحریک ختمِ نبوت کی اس جدوجہد میں سید ابو الاعلیٰ مودودی کا کردار نہایت نمایاں اور تاریخی ہے۔مولانا مودودی نے عقیدہ ختمِ نبوت کو محض ایک جذباتی یا سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی علمی اور عقلی بنیادیں واضح کیں اور قادیانیت کے بنیادی عقائد کا مدلل جائزہ پیش کیا۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ مولانا مودودی کی معروف تصنیف”قادیانی مسئلہ”نے برصغیر کے مسلمانوں میں قادیانیت کے بارے میں علمی و فکری شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1953ء کی تحریک ختمِ نبوت کے دوران اسی علمی جدوجہد کے نتیجے میں مولانا مودودی کو گرفتار کیا گیا اور فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی، مگر انہوں نے انتہائی مشکل اور کڑے وقت میں بھی اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔ ان کی استقامت، صبر اور ثابت قدمی تحریک اسلامی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے واضح طور پر نبی کریم حضرت محمد کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ 1953ء کے بعد بھی ختمِ نبوت کا مسئلہ علمی، دینی اور قومی سطح پر زیرِ بحث رہا اور بالآخر 1974ء میں یہ معاملہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔ طویل بحث، غور و خوض اور آئینی کارروائی کے بعد 7 ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی اور لاہوری گروہوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی کی جدوجہد کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بڑے دینی اور قومی مقاصد محض جذبات، نعروں یا وقتی ردعمل سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ علم، دلیل، دعوت، تنظیم، صبر، استقامت اور مسلسل پْرامن جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج ہمیں بھی عقیدہ ختمِ نبوت کے حوالے سے نئی نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں آگاہ کرنے اور اس عقیدے کی اہمیت کو علمی انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ 7 ستمبر ہمیں اپنے ایمان کے بنیادی عقیدے کی یاد دہانی کے ساتھ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ امت کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے باہمی اختلافات سے بلند ہوکر مشترکہ دینی و قومی مقاصد پر اتحاد پیدا کیا جائے۔



