
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے بعد ایران؟ مکہ معاہدے کو وسعت دینے کی تجویز
ماسکو(ناظم نیوز روزنامہ) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ خطے میں اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کے لیے ایک وسیع تر علاقائی فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے، جبکہ اس میں دیگر ممالک کی شمولیت کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے ہیں۔سرگئی لاوروف کے مطابق مکہ معاہدے کا تصور صرف تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس کے تحت خطے کے دیگر ممالک بھی مستقبل میں اس انتظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ممکنہ اتحاد میں شمولیت کو صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس تناظر میں مصر کی ممکنہ شمولیت کا بھی اکثر ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ الجزائر کی جانب سے دلچسپی کا اظہار اس عمل میں ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق وسیع تر شمولیت علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو مزید مؤثر اور جامع بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔لاوروف نے بالخصوص ایران کی ممکنہ شمولیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی شرائط طے کرلی جاتی ہیں تو یہ خطے میں اجتماعی سلامتی کے قیام کی جانب ایک عملی قدم ہوگا۔ روس نے اس امکان کو مثبت نظر سے دیکھنے کا عندیہ دیا ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اپنے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔ تینوں ممالک نے اگست کے اختتام پر مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں ایک مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا
، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے اور کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو اجتماعی سلامتی کے تناظر میں دیکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے میں دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت اسے ایک محدود تین ملکی دفاعی انتظام سے بڑھا کر وسیع تر علاقائی سلامتی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرسکتی ہے۔ تاہم ایران، مصر یا الجزائر جیسے ممالک کی شمولیت کے لیے سیاسی، دفاعی اور سفارتی شرائط کا طے ہونا ضروری ہوگا۔ایران کی ممکنہ شمولیت بالخصوص اہمیت کی حامل ہوگی،
کیونکہ اس سے خلیج اور مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک ایک ہی علاقائی سلامتی کے فریم ورک میں آسکتے ہیں۔ لاوروف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو ایسے کسی وسیع تر علاقائی سکیورٹی نظام کو خطے میں استحکام کے لیے قابلِ غور پیش رفت سمجھتا ہے۔یوں مکہ معاہدہ مستقبل میں صرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعاون تک محدود رہنے کے بجائے ایک ایسے علاقائی انتظام کی شکل اختیار کرسکتا ہے جس میں خلیجی ریاستوں کے علاوہ مصر، الجزائر اور ایران سمیت دیگر ممالک بھی شامل ہوسکیں۔
تاہم اس تصور کو عملی اتحاد میں تبدیل کرنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان شمولیت کی شرائط، مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر اتفاق بنیادی اہمیت رکھے گا۔



