
حکومت اور جماعت اسلامی آمنے سامنے، پٹرولیم لیوی پر اہم مذاکرات؛ عوام کو ریلیف کی امید
اسلام آباد ( ناظم نیوز روزنامہ )پٹرولیم لیوی احتجاج،جماعت اسلامی اور حکومت کے مابین مذاکرات میں جماعت اسلامی کی تجاویز حکومت کے حوالے کردی گئی۔مذاکرات کا تیسرا دور رواں ہفتے کے آخر میں ہوگا۔سوموار کووفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کے وفد سے اہم ملاقات کی۔ملاقات میں پٹرولیم لیوی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی سمیت اعلی حکام بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ لاہور میں طے پایا تھا کہ اسلام آباد میں پٹرولیم لیوی کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی، انہوں نے کہا کہ ہم سب کو عوام کا مفاد عزیز ہے، حکومت عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو کسی بھی طرح ریلیف مل سکے تو ہمیں خود بہت خوشی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات بہتر ہونے پر پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئی،جبکہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی پر مجبورا قیمتیں بڑھانا پڑیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی سے متعلق ورکنگ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے آج کا اجلاس ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کچھ قومی معاشی حقیقتیں ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ حکومت طے نہیں کرتی، اسٹیٹ بینک اس معاملے میں خودمختار ہے، اسٹیٹ بینک کا باقاعدہ پالیسی بورڈ افراط زر کو دیکھ کر پالیسی ریٹ کا فیصلہ کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بڑا پن ہے کہ ہر ایشو پر مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات ہی آخری حل ہیں، ہم بھی جانتے ہیں احتجاج کوئی حل نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ خوشی ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کو پہلی ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا ہونے سے عوام میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے، لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں، بہت سے فیصلے حکومت کی مجبوری ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تجاویز مختلف وزارتوں سے متعلق ہیں، ان سے رائے لی جائے گی،انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں سے فیڈ بیک کے بعد تین روز میں مذاکرات کا دوسرا رانڈ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خواہش ہے کہ معاشی بحالی سے عوام کو ریلیف ملے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت قابل عمل تجاویز کا خیر مقدم کرے گی ، جو تجاویز ناقابل عمل ہوں گی وضاحت کرے گی۔



